By using this site, you agree to the Privacy Policy and Terms of Use.
Accept
Karachi PaperKarachi PaperKarachi Paper
  • پہلا صفحہ
  • بینک
  • آئی پی پیز
  • عدالتیں
  • صحت
  • تعلیم
  • پاکستان
  • دنیا
  • بلدیہ
  • ایوی ایشن
  • ایف بی آر
  • این جی اوز
  • اسکالرشپ
  • فلسطین/اسرائیلنیا
  • مڈل ایسٹنیا
  • English
Karachi PaperKarachi Paper
تلاش کریں
  • پہلا صفحہ
  • بینک
  • آئی پی پیز
  • عدالتیں
  • صحت
  • تعلیم
  • پاکستان
  • دنیا
  • بلدیہ
  • ایوی ایشن
  • ایف بی آر
  • این جی اوز
  • اسکالرشپ
  • فلسطین/اسرائیلنیا
  • مڈل ایسٹنیا
  • English
Follow US
© 2022 Foxiz News Network. Ruby Design Company. All Rights Reserved.
تازہ تریندنیاسرخیاں

رنگین انقلابات کا دوسرا سیزن حصہ آخر، کراچی ایک کیس اسٹڈی

Karachi Papersمسعود انور
آخری بار اپ ڈیٹ: اکتوبر 6, 2025 3:47 شام
مصنف
Karachi Papers
مسعود انور
2 مہینے پہلے
Share
15 منٹ پڑھیں
colour Revolution 2
SHARE

یہاں تک تو اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے کہ کوئی بھی طاقت کسی بھی ملک میں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ اس ملک میں عوام کے جذبات کو برانگیجت کرکے اسے حکومت کے خلاف کھڑا کردیتی ہے ۔ ملین ڈالر کا سوال یہ ہے  کہ آخر عوام کیسے کسی کے ہاتھوں کھلونا بن جاتےہیں ۔ یہ اہم ترین سوال ہے جس کا جواب ہم بوجھ لیں تو بہت ساری باتیں سمجھ میں آجاتی ہیں ۔  پہلے گزشتہ آرٹیکل میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب بوجھتے ہیں ، اس کے بعد اس اہم ترین سوال پر بات کرتے ہیں ۔

گزشتہ آرٹیکل میں اٹھائے گئے سوالات تھے کہ  آخر یہ رنگین انقلاب لانے وا لے ہیں کون اور   رنگین انقلاب لا کر وہ کرنا کیا چاہتے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ کسی بھی ملک میں حکومت کی تبدیلی اس کے منشاء کاروں کے نزدیک ایک پروجیکٹ ہوتی ہے ۔ اور کسی بھی پروجیکٹ کے لیے فنڈنگ اہم ترین ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے زندگی کے لیے دوران خون کی اہمیت ۔  نوجوانوں کو منظم کرنے اور اس پروجیکٹ کی فنڈنگ کے لئے این جی اوز کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے  خاص طور سے کئی نجی فاوٴنڈیشنوں اور انسٹی ٹیوشنوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں سرفہرست البرٹ آئنسٹائن انسٹیٹیوٹ ، نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی، انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹیٹیوٹ، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ، فریڈم ہاوٴس اور انٹرنیشنل سنٹر فارنان وائیولینٹ کانفلکٹ ہیں۔ ان تمام این جی اوز جو کہ دیکھنے میں علمی تحقیق کے لیے  کام کررہی ہیں،  کو کبھی امریکی حکومت ، کبھی یورپی حکومتوں اور کبھی مدر آف این جی اوز جیسے اوپن سوسائٹی سے بلاروک ٹوک فنڈنگ کروائی جاتی ہے ۔  

امریکا میں فنڈنگ کی ذمہ داری امریکی حکومت کے مالی ونگ یوایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے پاس ہے ۔یو ایس ایڈ کا کام صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ مالی معاونت فراہم کرے۔  یو ایس ایڈ امریکی خارجہ پالیسی میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے۔  اس  ایجنسی کا امریکا  کی سیکوریٹی، انٹیلی جنس اور دفاع ، ہر شعبہ میں اہم ترین کردار  ہے۔تعمیر نو، اقتصادی ترقی، گورنیس، جمہوریت اور اسی طرح کے دیگر عنوانات کے تحت یو ایس ایڈ کروڑوں ڈالر ہر سال اس ملک میں منتقل کرتی ہے جو اس کا ہدف ہوتا ہے۔یہ ڈالراین جی اوز، طلبہ تنظیموں، لیبر یونینوں اور سیاسی تنظیموں میں تقسیم کیے  جاتے ہیں اور ان تمام جگہوں پر استعمال کیے  جاتے ہیں جو ہدف کو ہٹانے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ عوامی نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کے لیے میڈیا ہاؤسز کے علاوہ یوٹیوبرز ، بلاگرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر  ڈالر بے دریغ  اڑائے جاتے ہیں ۔  یہ فنڈز نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان سیاسی گروہوں میں تقسیم کے لیے  استعمال کیے  جاتے ہیں جو ہدف کے خلاف کام کررہے ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں اہم ترین سوال پر کہ کسی بھی حکومت کے خلاف ماحول  کس طرح سے تیار کیا جاتا ہے ۔ پہلے رنگین انقلاب سے لے کر آج تک جہاں جہاں بھی حکومت کے خلاف تحاریک چل رہی ہیں ،  آپ ایک قدر مشترک نوٹ کریں گے ، وہ قدر مشترک ہے کرپشن ۔ دوسری اہم قدر مشترک آپ کو ملے گی کہ مجرموں کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور ان سے نجات کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا ہے ۔

کیس اسٹڈی کے طور پر ہم کراچی کو لیتے ہیں ۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے ۔ یہ سرکار کو ہر مد میں سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپنی رپورٹ کے مطابق کراچی کا ایک چھوٹا سے تجارتی علاقہ لیاقت آباد پورے لاہور سے زیادہ سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ دیگر مدآت  کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے ۔ کراچی سے حاصل ہونے والے ریونیو کو کم دکھانے کے لیے ڈرائی پورٹ کی جادوگری دکھائی گئی کہ کراچی بندرگاہ پر اترنے والے سامان کو دیگر شہروں سے کلیئر کیا جائے اور کسٹمز اور دیگر ڈیوٹیوں کو اس شہر کی آمدنی دکھائی جائے ۔ عملی طور پر پتا چلتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس چوری ان ڈرائی پورٹس پر ہی ہورہی ہے ۔

اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ کراچی ملک کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہوتا مگر صورتحال اس کے یکسر برعکس ہے ۔ یہ ملک کا پسماندہ ترین علاقہ ہے ۔ آپ تعلیم ، صحت ، ٹرانسپورٹ ، امن و امان  ، انفرا اسٹرکچر  غرض کسی بھی شعبہ کو لے لیں ، اس سے بہتر آپ کو پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے دیہات مل جائیں گے ۔ ٹوٹی سڑکوں نے ہر شخص کو ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں تکلیف میں مبتلا کردیا ہے ۔ ان ہی ٹوٹی سڑکوں کی بناء پر گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات لامتناہی بڑھ گئے ہیں ۔ سڑک پر اڑتی دھول مٹی نے کراچی کو دنیا کے دوسرے آلودہ ترین شہر کے منصب پر فائز کردیا ہے ۔ سیوریج کا کوئی نظام نہیں ہے ۔ گلیوں سے لے کر مین روڈوں تک جگہ جگہ سیوریج کا پانی بہتا نظر آتا ہے ۔ جب یہ پانی خشک ہوتا ہے تو اس کی اڑنے والی دھول سے کراچی کے شہری آنکھ، ناک، سانس  اور سینے کے امراض میں مبتلا ہوجاتے  ہیں ۔  کبھی کراچی پورے سندھ اور بلوچستان تک کے لوگوں کو صحت کی سہولتیں مہیا کرتا تھا ، اب یہاں کا ہر اسپتال ناگفتہ حالت میں ہے ۔ یہی صورتحال یہاں کی یونیورسٹیوں سمیت سارے ہی تعلیمی اداروں کی ہے ۔ کراچی یونیورسٹی کو صوبے میں سب سے کم گرانٹ دی جاتی ہے ۔ کراچی کے تعلیمی بورڈزمیں شعوری طور پر  نااہل اور کرپٹ سربراہ اور ناظم امتحانات مقرر  کرکے ان کی ساکھ تباہ کردی گئی ہے ۔

سہولت مہیا کرنے کے بجائے ، اس پر مزید صورتحال یہ کہ صوبائی حکومت کراچی کو مزید شکنجے میں کستی جارہی ہے ۔ بلدیہ کی صورتحال یہ ہے کہ دس لاکھ  روپے تک کے سارے پروجیکٹ صرف کاغذوں پر ہی مکمل ہوتےہیں ۔ باقی پروجیکٹ میں پچاس فیصد سے زاید رشوت میں چلا جاتا ہے ۔ سندھ سیکریٹریٹ میں ہر منصوبے کی منظوری کے لے 13 فیصد کا ریٹ مقرر ہے جو اب بڑھا کر 20 فیصد تک کردیا گیا ہے ۔ اے جی سندھ ہو یا بلدیہ کا محکمہ فنانس ، پنش و پراویڈنٹ کی منظوری کے لیے 30 فیصد دیے بغیر کام نہیں ہوتا ۔ پورا کراچی سسٹم کے حوالے ہے ۔ یہ سسٹم اتنا مضبوط ہے اور صوبے کی مقتدر ترین شخصیت تک بھتہ پہنچاتا ہے کہ کوئی بھی اسے  توڑ نہیں سکتا ۔

کراچی کے لیے تولنے کے پیمانے الگ ہیں اور کراچی کے علاوہ بقیہ صوبے کے لیے الگ ۔ کراچی میں جگہ جگہ آپ کو پولیس ناکہ لگائے نظر آئے گی ۔ یہ ناکے مجرموں کو پکڑنے کے لیے نہیں ہے بلکہ شہریوں سے بھتوں کی وصولی کے لیے لگائے جاتے ہیں ۔ صرف کراچی کے لیے ٹریفک کے جرمانے اتنے بڑھادیے گئے ہیں کہ الامان  اور عدم ادائیگی پر گرفتاریوں سے لے کر گاڑی کی ضبطگی تک کے فرمان جاری کردیے گئے ہیں  ۔ اب آپ سوچیں کہ ایک عام آدمی جب موٹر سائیکل پر  سڑک پر نکلے اور اسے روز کم از کم پانچ سو روپے کا پولیس کو بھتہ دینا ہے ، بیماری یا حادثہ کی صورت میں  صحت کی سہولت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، اتنے بڑے شہر میں ایمبولینس کی کوئی سہولت نہیں ہے ، تعلیم کی کوئی سہولت نہیں ہے ، بجلی نہیں ہے ، گیس نہیں ہے مگر ان کے بل اتنے ہوتے ہیں کہ کئی ماہ کی تنخواہ بھی کم پڑ جائے ۔

عوام کو تنگ کرنے کے لیے روز ایک نیا طریقہ کار ایجاد ہوتا ہے ۔ اس میں ایک نیا طریقہ ٹاؤن کے افسران اور اہلکار بھی ہیں ۔ یہ اپنا بنیادی کام ایک بھی نہیں کرتے ۔ گلیوں میں روشنی ، صحت ، صفائی ، آوارہ کتے ، سیوریج سب تباہ حال ہیں مگر ان کے کارندے بھوکے کتوں کی طرح ہر شہری سے بھتہ وصولی کے لیے دن و رات کام کررہے ہیں ۔

اس کے برخلاف دیگر شہروں میں جائیں تو پتا چلتا ہے کہ ہیلمٹ تو دور کی بات ہے موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ ہی نہیں ہے اور یہ کراچی سے چھینی گےیا چوری شدہ موٹر سائیکل یا کار ہے ۔ اسی طرح کراچی میں جو نئے نئے قوانین متعارف کروائے گئے ہیں، ان کا وہاں پر کوئی ذکر بھی نہیں ہے ۔ اس سے کراچی کے لوگوں کا فرسٹریشن اور بڑھ جاتا ہے ۔

یہ کراچی کی مختصر داستان ہے ۔ ایسے میں ہر شہری پریشان ہے اور کسی بھی حل کی تلاش میں ہے ۔ سب سے پہلے تو وہ ان کے حل کے لیے مقتدر افراد کی طرف دیکھے گا ۔ جب اسے پتا چلتا ہے کہ مقتدر افراد ہی تو یہ سب کروارہے ہیں تو پھر وہ دوسرے حل کی طرف دیکھتا ہے ۔ ایک وزیر بلدیات احمقانہ بیان دیتا  ہے کہ کراچی کے لوگ خود ہی اپنی سڑکیں اور سیوریج کی لائنیں توڑتے ہیں تو میئر کراچی اس سے زیادہ گھامڑ پنے کا مظاہرہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کراچی کے لوگ ناشکرے ہیں ۔ ان کے گاڈ فادر روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا کہ عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔   ایسے میں دوسرا حل ہےکمپنی بہادر ۔ مگر پتا چلتا ہے کہ صوبے میں کرپٹ افراد کو اقتدار میں لانے کا سہرا تو کمپنی بہادر کو ہی جاتا ہے اور اب کمپنی بہادر کے لوگ انفرادی طور پر سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں ۔ یہ دیکھ کر  لوگ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

ایسے میں اگر پراسرار طور پر سوشل میڈیا پر تبدیلی کی مہم شروع ہوجاتی ہے اور روشنی کی کوئی کرن نظر آتی ہے تو پھر پورا کراچی باہر ہوگا  اور آگ میں جل رہا ہوگا ۔ بندرگاہ بند ہوچکی ہوگی اور ملک کی معیشت مفلوج ۔  ایک بات اور سمجھیں کہ ساٹھ کی دہائی اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اب یہ  قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے آنے والوں کا شہر نہیں رہا ۔ وہ تو اب چند فیصد رہ گئے ہیں ۔ یہاں پر پشاور سے زیادہ پختون ، کوئٹہ سے زیادہ بلوچ، جنوبی پنجاب سے زیادہ سرائیکی ، ہزارہ سے زیادہ ہندکو بولنے والے اور سندھ کے کسی بھی شہر سے زیادہ سندھی بولنے والے بستے ہیں ۔ یہ سب کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں اور اب یہ کہیں اور کے نہیں کراچی کے باشندے ہیں ۔ ان کے بچے یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں تعلیم حاصل کی ہے، یہیں جوان ہوئے ہیں  ۔ یہ اب اپنے آبائی علاقوں میں اجنبی ہیں ۔ اس لیے اب  کراچی کسی ایک زبان بولنے والوں کا شہر نہیں رہا ہے بلکہ یہ ایک کاسموپولیٹن شہر ہے ۔

اب سمجھ میں تو آگیا کہ زمین کیسے ہموار ہوتی ہے ۔ تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ پاکستان میں رنگین انقلاب کیوں نہیں ۔ یہ انقلاب اس وقت آتا ہے جب مقتدر حلقے آقاؤں کو آنکھ دکھانا شروع کرتے ہیں ۔ اس وقت تو یہ مقتدر حلقے آقاؤں کی آنکھ کا تارا ہیں ۔ جس لمحے یہ ایکساپئر ہوئے اور کام کے نہیں رہے ، اسی لمحے ان کی کرپشن ، نااہلی کے خلاف مہم شروع ہوجائے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع  ہوجائے گا  ۔

اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش

اس آرٹیکل کو شیئر کریں
Facebook Email Print
پچھلا مضمون colour Revolution رنگین انقلابات کا دوسرا سیزن
اگلا مضمون Mushtaq Ahmed Khan اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد مشتاق احمد خان کا پہلا ویڈیو پیغام

ایڈیٹر کا انتخاب

ٹاپ رائٹرز

مسعود انور 15 Articles

رائے

PAA

 ایئرپورٹس کے آپریشنل ایریاز میں فوٹو گرافی اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی  اے اے) نے ایئرپورٹس کے آپریشنل…

8 مہینے پہلے

اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد آج وطن پہنچیں گے

اسرائیلی فوج کی قید سے رہائی…

2 مہینے پہلے

پاکستان کوسٹ کی منشیات اسمگلنگ  کے خلاف  کارروائیاں، 136.528 ملین ڈالر  مالیت کی منشیات ضبط          

پاکستان کوسٹ گارڈز  کے ترجمان کے…

2 مہینے پہلے

اسرائیل نے نے غزہ امداد لے جانے والا ایک اور فلوٹیلا روک لیا

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے…

2 مہینے پہلے

اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد مشتاق احمد خان کا پہلا ویڈیو پیغام

مشتاق احمد خان کے آفیشل فیس…

2 مہینے پہلے
Karachi PaperKarachi Paper
Follow US
2025 Karachi Papers Network. All Rights Reserved ©
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?