غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی جانب جانے والے ایک اور امدادی فلوٹیلا کو روک لیا ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے مطابق، اسرائیلی فوج نے سمندری حدود میں سگنلز جام کیے اور دو کشتیوں پر سوار کارکنوں کو حراست میں لیا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو بین الاقوامی پانیوں میں کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں اور ان کا مشن صرف انسانی امداد فراہم کرنا تھا۔
تنظیم کے مطابق، تین کشتیاں غزہ سن برڈز، علاء النجّار، اور انس الشریف پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور انہیں غیر قانونی طور پر روک لیا۔ یہ واقعہ صبح سویرے غزہ کے ساحل سے تقریباً 220 کلومیٹر دور پیش آیا، جبکہ مزید ایک اور جہاز، کانشس پر بھی حملہ کیا گیا۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن ابین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو فلسطینیوں کے حامی کارکنوں کے گروپوں پر مشتمل ہے۔ جن کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں کے فلسطینی عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کشتیون کو روکنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان پر موجود افراد کو اسرائیلی بندرگاہ لے جا کر ملک بدر کر دیا جائے گا۔
کولیشن کے مطابق، ان جہازوں پر 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی ادویات، سانس لینے کا طبی سامان اور غذائی امداد موجود تھی، جو غزہ کے تباہ حال اسپتالوں کے لیے بھیجی جا رہی تھی۔
یہ چند دنوں میں دوسرا واقعہ ہے جب اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے جہازوں کو روکا۔ اس سے قبل، گلوبل سُمود فلوٹیلا کے 40 سے زائد جہازوں اور 450 سے زیادہ کارکنوں کو روکا گیا تھا، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔
ان کارکنوں نے بتایا کہ انہیں اسرائیلی فورسز نے حراست کے دوران جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس واقعے کے بعد یورپ بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔


